Uncategorized

ایک مولوی صاحب کی کہانی… شاعرِ مشرق، علامہ اقبال کی زبانی: اقبال اور ایک مُلا کا چَشم کُشا مکالمہ… نظم اور ترجمہ

نظم ” زہد اور رندی” از علامہ مُحمد اقبال

از علامہ مُحمد اقبال

(اِس شوخ اور چُلبلی نظم میں، ایک مولوی صاحب، علامہ اقبال کو حُسن فروشوں کو بُرا نہ سمجھنے، الحادی فلسفے کا پیروکار ہونے، رات کو گانا گانے اور صبح کو تلاوت کرنے، شیعہ مائل ہونے، موسیقی کا دلدادہ اور ہندوؤں کو کافر نہ سمجھنے پر، “ایک نئے ہی اِسلام کا بانی” قرار دیتے ہوئے، علامہ اقبال کو نظریاتی طور پر، بھٹکا ہوا کہتا ہے…

زرا دیکھئے، علامہ اقبال، مولوی صاحب کو کیا خوبصورت جواب دیتے ہیں…

نظم کے آخر پر، میں‌ نے ترجمہ بھی شامل کیا ہے…)

اِک مولوی صاحب کی سُناتا ہوں کہانی،
تيزی نہيں منظور، طبيعت کی دِکھانی…
شُہرہ تھا بہت، آپ کی صوفی مَنشی کا،
کرتے تھے ادب اُن کا، اعالی و ادانی…
کہتے تھے کہ پنہاں ہے، تصوف ميں شريعت،
جس طرح کہ الفاظ ميں، مُضمر ہوں معانی…

لبريز مۓ زہد سے تھی، دل کی صراحی،
تھی تہ ميں کہيں، دردِ خيال ہمہ دانی…
کرتے تھے بياں آپ، کرامات کا اپنی،
منظور تھی تعداد، مُريدوں کی بڑھانی…

مُدت سے رہا کرتے تھے، ہمسائے ميں ميرے،
تھی رند سے زاہد کی، مُلاقات پرانی…
حضرت نے مرے، ايک شناسا سے، يہ پوچھا،
اقبال ، کہ ہے قمری شمشادِ معانی…
پابندیِ احکامِ شريعت ميں ہے کيسا؟
گو شعر ميں ہے، رشکِ کليمِ ہمدانی…

سُنتا ہوں کہ کافر نہیں، ہندو کو سمجھتا،
ہے ايسا عقيدہ، اثرِ فلسفہ دانی…
ہے اِس کی طبيعت ميں، تشيع بھی، ذرا سا،
تفضيلِ علی ہم نے سُنی، اِس کی زبانی…

سمجھا ہے کہ ہے راگ، عبادات ميں داخل،
مقصود ہے مذہب کی، مگر خاک اڑانی…
کچھ عار اِسے حُسن فروشوں سے، نہيں ہے،
عادت يہ ہمارے، شُعرا کی ہے پرانی…
گانا جو ہے شب کو، تو سحر کو ہے تلاوت،
اس رَمز کے، اب تک نہ کُھلے، ہم پہ معانی…

ليکن يہ سُنا، اپنے مُريدوں سے ہے، ميں نے،
بے داغ ہے، مانندِ سحر، اس کی جوانی…

مجموعہِ اضداد ہے ، اقبال نہيں ہے،
دِل دفترِ حکمت ہے ، طبيعت خفقانی…
رندی سے بھی آگاہ، شريعت سے بھی واقف،
پُوچھو جو تصوف کی، تو منصور کا ثانی…

اِس شخص کی، ہم پر تو، حقيقت نہيں کُھلتی،
ہو گا يہ، کسی اور ہی، اِسلام کا بانی…

القصہ! بہت طُول ديا، وعظ کو اپنے،
تا دير رہی آپ کی، يہ نغز بيانی…
اِس شہر ميں، جو بات ہو، اُڑ جاتی ہے سب میں،
ميں نے بھی سُنی، اپنے احبا کی زبانی…

اِک دِن جو سرِ راہ مِلے، حضرتِ زاہد،
پھر چِھڑ گئی باتوں ميں، وہی بات پرانی…
فرمايا، شکايت وہ، محبت کے سبب تھی،
تھا فرض مرا، راہ شريعت کی دِکھانی…

ميں نے يہ کہا، کوئی گِلہ مُجھ کو، نہيں ہے،
يہ آپ کا حق تھا، ز رہِ قُربِ مکانی…
خم ہے، سرِ تسليم مرا، آپ کے آگے،
پيری ہے، تواضع کے سبب، ميری جوانی…

گر آپ کو معلوم نہیں، ميری حقيقت،
پيدا نہيں کُچھ، اس سے قصورِ ہمہ دانی…

ميں خُود بھی نہیں، اپنی حقيقت کا شناسا،
گہرا ہے مرے، بحرِ خيالات کا پانی…
مُجھ کو بھی تمنا ہے، کہ ‘اقبال’ کو دیکھوں،
کی اُس کی جدائی ميں، بہت اَشک فشانی…

اقبال بھی ‘اقبال’ سے آگاہ نہيں ھے،
کُچھ اِس ميں، تمسخر نہيں، واللہ نہيں ھے…!

……………………………………………………………………

نظم ” زہد اور رندی” از علامہ اقبال

مفہوم اور ترجمہ:

” زہد اور رندی”ایک ایسی نظم ہے جس میں ایک جانب تو علامہ اقبال نے بڑے خوب صورت انداز میں اپنے عقائد کا ذکر کیا ہے اور دوسری جانب اُن تضادات کی نشاندہی بھی کی ہے جو مُلااِزم اور پاپائیت کے تعصبات کی پیداوار ہیں۔ اِس نظم کے عملی سطح پر دو کردار ہیں،ایک مولوی صاحب اور دوسرا ایسا آزاد خیال مسلمان جو اسلام کو انتہائی وسیع المشرب مذہب تصور کرتاہے جبکہ مولوی اسے اپنے ذاتی تعصابات ک عینک سے جانچتا اور دیکھتا ہے۔

فرماتے ہیں!

میں یہاں آپ کو ایک مولوی صاحب کی داستان سنانے لگا ہوں۔ میرے اس عمل کا مقصد قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ محض اپنی طبع کی تیزی کا اظہار کروں بلکہ کچھ ایسے حقائق ہیں جن کا تذکرہ ناگزیر ہے۔جن مولوی صاحب کی داستان سنائی جا رہی ہے اُن کے بارے میں یہی شہرت تھی کہ وہ تصوف کے فلسفہ سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اسی سبب ہر چھوٹا بڑا موصوف کا بہت احترام کرتا تھا۔

ان مولوی صاحب کا یہ عقیدہ تھا کہ تصوف کے فلسفے میں شریعت اس طرح پو شیدہ ہے جیسے کہ الفاظ میں معانی چھپے ہوتے ہیں۔ ان کا دل بھی کہا جاتا ہے کہ زہد سے لبریز تھا،یوں بھی خود کو بہت حیر و عاقل تصور کرتے تھے۔یہاں تک کہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ان کے اس رویے کا بنیادی مقصد فی الواقع اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ اپنے مریدوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

اقبال کہتے ہیں کہ یہ مولوی صاحب میرے پڑوس میں عرصہ دراز سے سکونت اختیار کیے ہوئے تھے۔میں تو خیر رند ہی تھا، لیکن زہد کے ان دعویدار سے پڑوسی ہونے کے ناطے پرانی واقفیت تھی۔ ایک روز انھوں نے میرے بجائے میرے ایک واقف کار سے استفسار کیاکہ یہ شخص اقبال جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ بلند پایا شاعر ہے ،اس کے متعلق سنا گیا ہے کہ ہندو کو کافر نہیں سمجھتا اس نوع کا عقیدہ تو محض ایسے شخص کا ہو سکتا ہے جو محض فلسفے پر یقین رکھتا ہو،لیکن یہ بتاؤ کہ اقبال اگرچہ شاعر تو بہت اچھا ہے تاہم احکامِ شریعت کی پابندی بھی کرتا ہے یا نہیں؟

مزید براں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اقبال کی فطرت میں شیعیت عقیدے کا بھی کچھ عمل دخل ہے۔ اس لیے کہ وہ خلفاء میں سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو افضل تصور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ راگ رنگ کو بھی عبادت کا ایک حصہ خیال کرتا ہے ۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ مذہب کا مذاق اڑاتا ہے.. مزید یہ کہ وہ تو توائفیت کو بھی بُرا نہیں سمجھتا ۔ محض اقبال سے ہی یہ شکایت نہیں ہونی چاہیے اس لیے کہ ہمارے شعراء کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے۔

وہ یہی تو کرتے تھے.. رات گانے سے محظوظ ہونا صبحِ دم قرآن کرم کی تلاوت کرنا۔ یہ صورتِ حال بہرحال ایک ایسا راز ہے جس کی تعبیر سے کم از کم ہم ابھی تک آگاہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے مریدوں سے یہ بھی سنا ہے کہ وہ عالمِ شباب میں بھی بے داغ کردار کا مالک ہے۔ مجھے تو یوں ،محسوس ہوتا ہے کہ اقبال اضداد کا مجموعہ ہے یعنی اس کا دل تو حکمت و دانش کا خزینہ ہے، جبکہ طبیعت میں قدرے جنون کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ مولوی صاحب اپنے استفسار کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ مُجھ پر اِس شخص کی حقیقت واضح نہیں ہوتی.. کیا وہ کوئی نئے اسلام کا بانی تو نہیں ہے؟ اقبال کہتے ہیں کہ مولوی صاحب کی لمبی چوڑی تقریر کافی دیر تک جاری رہی… چونکہ اس شہر مییں کوئی بات چھپی نہیں رہتی.. اس لیے مولوی صاحب کے ارشادات کا ہر طرف چرچا ہونے لگا اور داستان مجھ تک بھی پہنچ گئی۔

اقبال مزید لکھتے ہیں کہ بعد میں ایک روز مولوی صاحب سرِ راہ اچانک مل گئے۔ ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد بولے بُرا نہ ماننا ! وہ باتیں جو تم تک پہنچی ہیں دراصل وہ تو محبت کے سبب کہی گئی تھیں۔ میرا مقصد تو تمھیں محض شیعت کی راہ سے آگاہ کرنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر میں نے جواباً کہا کہ پڑوسی ہونے کے ناطے آپ نے جو کچھ فرمایا وہ یقیناً آپ کا حق تھا مجھے اس پر کوئی گلہ اور شکایت نہیں ہے۔

مولانا، میں تو آپ کا نیاز مند ہوں ۔ویسے بھی آپ میرے بزرگ ہیں ۔ رہا یہ مسئلہ کہ آپ میری حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں، تو اس پر حیرت بھی نہیں ہوتی نہ ہی اس میں کسی دانش کا دخل ہے اس لیے کہ میں تو خود بھی اپنی حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتا ۔ میرے خیالات میں جو گہرائی ہے اس کا علم تو مجھے بھی نہیں ۔ میری بھی یہی خواہش ہے کہ اقبال کو خود بھی دیکھوں ۔ میں نہں جانتا کہ میں کیا شے ہوں ، سچی بات تو یہ ہے اقبال خود بھی اقبال کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے اور یہ بات میں ازراہِ مذاق اور طنز و مزاح نہیں کہہ رہا… خُدا کی قَسم، سچائی اور حقیقت یہی ہے… بالکل یہی ھے…!!!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s